حدیث نمبر: 17720
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: أَلَا تَدْعُو اللهَ لَنَا أَلَا تَسْتَنْصِرُ اللهَ لَنَا قَالَ: فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، قَالَ: " وَاللهِ إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَيُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ الْحُفْرَةُ فَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، أَوْ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا بَيْنَ عَصَبِهِ وَلَحْمِهِ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْكُمْ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللهَ أَوِ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (تنگ دستی) کی شکایت کی اور آپ اپنی چادر سے کعبہ کے سایہ میں تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے، ہمارے لیے اللہ سے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے جو پہلے (ایمان دار) لوگ تھے ان میں سے کسی ایک کو پکڑا جاتا اور اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا۔ پھر اس کے سر پر آرا رکھا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے۔ یہ چیز بھی ان کو ان کے دین سے نہ پھیر سکی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے پٹھوں اور گوشت کے درمیان سے نوچا جاتا اور یہ تکلیف بھی اسے اس کے دین سے نہ روک سکتی اور اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور ضرور غالب اور پورا کرے گا حتیٰ کہ تم میں سے ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہو گا، نہ بھیڑیے کا اپنی بکریوں پر لیکن تم جلدی کرتے ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17720
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»