أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ⦗٩⦘ أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: ثُمَّ أَخْبَرَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَنَّهُ جَعَلَهُ فَاتِحَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ فَتْرَةِ رُسُلِهِ، فَقَالَ: {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ} [المائدة: ١٩]، وَقَالَ: {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ} [الجمعة: ٢]، وَكَانَ فِي ذَلِكَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ بَعَثَهُ إِلَى خَلْقِهِ لِأَنَّهُمْ كَانُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَالْأُمِّيِّينَ، وَأَنَّهُ فَتَحَ بِهِ رَحْمَتَهُ وَخَتَمَ بِهِ نُبُوَّتَهُ، فَقَالَ: {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ، وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} [الأحزاب: ٤٠].حضرت بہز بن حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم ستر سے زیادہ امتوں میں تقسیم ہو جاؤ گے اور تم ان سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں مکرم ہو گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے والے رسل کی رسالت کے منقطع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی (رسالت) اور آپ کی ذات کو فاتح رحمت قرار دیا ہے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ﴾ [سورة المائدة: 19] ”اے اہل کتاب! یقیناً ہمارا رسول تمہارے پاس رسول کی آمد کے ایک وقفے کے بعد پہنچا ہے، جو تمہارے لیے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں۔ پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آ پہنچا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ﴾ [سورة الجمعة: 2] ”وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔۔۔“ ان آیات میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تمام مخلوق کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ ان میں اہل کتاب بھی تھے اور ناخواندہ بھی اور آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو کھولا اور سلسلہ نبوت کو ختم کیا اور اس بارے میں فرمان بھی جاری کر دیا: ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ [سورة الأحزاب: 40] ”(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔“