وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلِيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَغَيْرِهِ، عَنِ اللَّيْثِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ خَاصَّتِهِ صَفْوَتَهُ، فَقَالَ: {إِنَّ اللهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} [آل عمران: ٣٣]، وَسَاقَ الشَّافِعِيُّ الْكَلَامَ عَلَيْهِ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْرِ آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَنْزَلَ كُتُبَهُ قَبْلَ إِنْزَالِهِ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِفَتِهِ وَفَضِيلَةِ مَنْ تَبِعَهُ، فَقَالَ: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تُرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ} [الفتح: ٢٩] الْآيَةَ.حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے کوئی ایسا نبی نہیں مگر یہ کہ جتنے لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اسی قدر اللہ تعالیٰ اسے اپنی نشانیاں اور معجزات عطا فرماتے ہیں اور جو مجھے نشانی اور معجزہ دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف کی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ میرے پیروکار ہوں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ خاص بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 33] ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر چن لیا“ اور اس آیت پر امام شافعی رحمہ اللہ اپنا کلام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کے منتخب لوگوں میں سے حضرت محمد ﷺ کا انتخاب کیا اور محمد ﷺ پر فرقانِ حمید نازل کرنے سے پہلے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور آپ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی فضیلت کا وصف اس طرح بیان کیا: ﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ...﴾ [سورة الفتح: 29] ”محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھی کافروں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحیم و کریم۔ آپ ان کو کبھی رکوع میں اور کبھی سجدے میں اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ان کی علامات ان کے چہروں میں کثرتِ سجود کی وجہ سے نمایاں ہوں گی۔ یہ ان کی مثال تورات میں ہے اور انجیل میں۔ وہ ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر وہ اس پر کھڑی ہوئی اور مضبوط ہو کر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔“