أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ " خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَنْ عِلْمِ اللهِ "، ⦗٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ أَبَانَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَنَّ خِيرَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ أَنْبِيَاؤُهُ، فَقَالَ: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ} [البقرة: ٢١٣]، فَجَعَلَ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْفِيَائِهِ دُونَ عِبَادِهِ بِالْأَمَانَةِ عَلَى وَحْيِهِ وَالْقِيَامِ بِحُجَّتِهِ فِيهِمْ.سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنا نور ڈالا۔ جس کو اس دن اس نور میں سے کچھ مل گیا تو اس نے تو ہدایت پا لی اور جس کو یہ نور نہ ملا تو وہ گمراہ ہو گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ قلمیں لکھ کر خشک ہو گئی ہیں اللہ کے علم کے مطابق۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل نے واضح کر دیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے: ﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ﴾ [سورة البقرة: 213] کہ ”پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا“، پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔