السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: آخر وقت الاختيار لصلاة الصبح باب: نمازِ صبح کے آخری وقتِ اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 1769
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ فَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ دَعَا الرَّجُلَ فَقَالَ: " أَشَهِدْتَ الصَّلَاةَ أَمْسِ وَالْيَوْمَ؟ "، وَقَالَ: نَعَمْ قَالَ: " مَا بَيْنَ هَذَا وَهَذَا وَقْتٌ " وَرُوِّينَا مَعْنَاهُ فِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحَصِيبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صبح کی نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان کہی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر انہوں نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔ جب اگلی صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کو مؤخر کیا یہاں تک کہ (سویرا) روشن ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اقامت کہے، انہوں نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا: ”تو آج اور کل نماز کے ساتھ حاضر ہوا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے اور اس کے درمیان (نماز کا) وقت ہے۔“