السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الرجل يستأذن على دار فلا يستقبل الباب ولا ينظر باب: جب کوئی شخص کسی گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرے تو وہ دروازے کے بالکل سامنے کھڑا نہ ہو اور نہ ہی اندر جھانکے۔
حدیث نمبر: 17662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ⦗٥٨٩⦘ بِشْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، أَنَّ سَعْدًا، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبَالَةَ الْبَابِ، فَقَالَ لَهُ: " إِذَا اسْتَأْذَنْتَ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْبَابَ " كِلَاهُمَا مُرْسَلٌ.حافظ ثناء اللہ
ہلال بن یساف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دروازے کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر نبی ﷺ سے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب تم اجازت طلب کرو تو دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہو۔“
یہ دونوں روایتیں مرسل ہیں۔