السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الرجل يستأذن على دار فلا يستقبل الباب ولا ينظر باب: جب کوئی شخص کسی گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرے تو وہ دروازے کے بالکل سامنے کھڑا نہ ہو اور نہ ہی اندر جھانکے۔
حدیث نمبر: 17661
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَتَى سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْبَابَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ: " هَكَذَا يَا سَعْدُ، فَإِنَّمَا الِاسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ ".حافظ ثناء اللہ
ہذیل بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انھیں ہاتھ سے ایک طرف کیا اور فرمایا: ”اس طرح اجازت مانگو، نظر کی وجہ سے تو اجازت رکھی گئی ہے۔“