السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يسقط القصاص من العمد باب: قتلِ عمد میں جن صورتوں سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 17642
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا قَاتَلَ آخَرَ فَعَضَّهُ، فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ وَانْتُزِعَتْ سِنَّةٌ، فَأَتَيَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، " فَأَهْدَرَهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی انگلی پر کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ دونوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے اس کو رائیگاں قرار دیا۔