السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يسقط القصاص من العمد باب: قتلِ عمد میں جن صورتوں سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 17641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَتْ أَوْثَقَ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ⦗٥٨٤⦘ فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، قَالَ عَطَاءٌ: فَخَشِيتُ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكِ فَتَقْضِمَهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کیا اور یہ میرے اعمال میں سب سے بھاری عمل تھا۔ میرا ایک پڑوسی تھا جو ایک انسان سے لڑ پڑا اور اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے ثنیہ دانت ٹوٹ گئے، تو وہ نبی ﷺ کے پاس قصاص کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا وہ تیرے منہ میں اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا اور تو اسے سانڈ کی طرح چباتا۔“