السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: آخر وقت الجواز لصلاة العشاء باب: نمازِ عشاء کے آخری وقتِ جواز کا بیان
رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: وَقْتِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ وَعَنْهُ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةٍ: مَا أَفْرَاطُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ؟ قَالَ: طُلُوعُ الْفَجْرِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةِ بِالْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَقَدْ نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ: " إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " وَهَذَا يَرِدُ فِي بَابِ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ.ہمیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے فرمایا: ”عشاء کا وقت فجر تک ہے۔“ اور ان سے اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں مروی ہے جو طلوع فجر سے پہلے پاک ہو جائے کہ وہ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے گی۔ اور عبید بن جریج سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”عشاء کی نماز کا آخری وقت کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”فجر کا طلوع ہونا۔“
اور ہمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی گئی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا اور مسجد والے سو گئے، پھر آپ ﷺ ان کی طرف تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، اور فرمایا: ”یقیناً یہی اس کا (اصل) وقت ہے، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔“ اور یہ بات عشاء کی نماز کو مؤخر کرنے کے باب میں وارد ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٥٤⦘ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ: " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الْأُخْرَى " رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ... لمبی حدیث ہے، اس میں ہے: ”نیند میں کمی کرنا ضروری نہیں ہے، یہ اس شخص کے لیے ہے جس نے نماز نہیں پڑھی اور دوسرا وقت آگیا۔“