السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الشفاعة بالحدود باب: حدود کے معاملات میں سفارش کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17620
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ الْفُرَافِصَةِ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: مَرَّ عَلَيْنَا الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَخَذْنَا سَارِقًا، فَجَعَلَ يَشْفَعُ لَهُ فَقَالَ: أَرْسِلُوهُ، قَالَ: قُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ تَأْمُرُنَا أَنْ نُرْسِلَهُ؟ قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ يُفْعَلُ دُونَ السُّلْطَانِ، فَإِذَا بَلَغَ السُّلْطَانَ فَلَا أَعْفَاهُ اللهُ إِنْ أَعْفَاهُ.حافظ ثناء اللہ
فرافصہ حنفی کہتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے ایک چور کو پکڑا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی سفارش کی کہ اسے چھوڑ دو۔ ہم نے کہا: اے ابو عبد اللہ! آپ ہمیں اسے چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سلطان سے پہلے یہ کہا جا سکتا ہے، اگر سلطان تک بات چلی گئی تو پھر کوئی معافی نہیں، پھر اللہ ہی چاہے تو اسے معاف کرے۔