السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الشفاعة بالحدود باب: حدود کے معاملات میں سفارش کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ حَدَّثَهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ: " مَا لَكُمْ لَا تَتَكَلَّمُونَ؟ مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، كَتَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَالَهَا عَشْرًا كَتَبَ اللهُ لَهُ مِائَةَ حَسَنَةٍ، وَمَنْ قَالَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللهُ، وَمَنِ اسْتَغْفَرَ غَفَرَ اللهُ لَهُ، وَمَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي حُكْمِهِ، وَمَنِ اتَّهَمَ بَرِيئًا صَيَّرَهُ اللهُ إِلَى طِينَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَأْتِيَ بِالْمَخْرَجِ مِمَّا قَالَ، وَمَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ يَفْضَحُهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَضَحَهُ اللهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اور صحابہ کرام بیٹھے ہوئے تھے: ”تم کچھ بولتے کیوں نہیں؟ جس نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے“ کہا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور جس نے دس دس مرتبہ کہا اس کے سو اور جس نے سو مرتبہ کہا اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ جو زیادہ کرے گا اللہ بھی زیادہ کر دے گا اور جو اللہ سے استغفار کرے گا اللہ اسے بخش دے گا؛ جس کی شفاعت حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ میں حائل ہو گئی تو اس نے اپنے معاملے میں اللہ سے ضد کی اور جو مر گیا اور اس پر قرض ہے تو وہ نیکیوں اور برائیوں کی صورت میں ادا ہو گا اور جو کسی باطل کے لیے لڑتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک کہ اس سے پیچھے نہ ہٹ جائے اور جو کسی مومن کے لیے ناحق بات کہتا ہے تو اللہ اسے «رَدْغَةِ الْخَبَالِ» ”جہنم کے کیچڑ“ میں ڈالے گا یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائے جو اس نے کہا، اور جو دنیا میں اپنے بچے کا انکار کرے گا اس کو رسوا کرنے کے لیے تو اللہ اسے تمام مخلوقات کے سامنے قیامت کے دن رسوا کرے گا۔“