السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الستر على أهل الحدود باب: حد والے جرائم کے مرتکب افراد پر پردہ ڈالنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17615
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مَيْسَرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنِي هَذَا قَتَلَ زَوْجِي، فَقَالَ الِابْنُ: إِنَّ عَبْدِي وَقَعَ عَلَى أُمِّي، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " خِبْتُمَا وَخَسِرْتُمَا، إِنْ تَكُونِي صَادِقَةً نَقْتُلِ ابْنَكِ، وَإِنْ يَكُنِ ابْنُكِ صَادِقًا نَرْجُمْكِ " ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلصَّلَاةِ، فَقَالَ الْغُلَامُ لِأُمِّهِ: مَا تَنْظُرِينَ أَنْ يَقْتُلَنِي أَوْ يَرْجُمَكِ، فَانْصَرَفَا، فَلَمَّا صَلَّى سَأَلَ عَنْهُمَا فَقِيلَ: انْطَلَقَا.حافظ ثناء اللہ
میسرہ کہتے ہیں کہ ایک ماں اور بیٹا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اس نے میرے خاوند کو قتل کیا ہے، اور وہ بیٹا کہنے لگا: میرا غلام میری ماں پر واقع ہوا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دونوں برباد ہو گئے۔ اگر تو سچی ہے تو ہم اسے قتل کریں گے، اور اگر تیرا بیٹا سچا ہے تو تجھے رجم۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز کے لیے چلے گئے تو اس لڑکے نے اپنی ماں سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے قتل کیا جائے یا تجھے رجم؟ وہ دونوں چلے گئے، جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو کر آئے اور ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ چلے گئے ہیں۔