السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الستر على أهل الحدود باب: حد والے جرائم کے مرتکب افراد پر پردہ ڈالنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي مَجْزَأَةَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَلْيَأْتِنَا فُلْنُطَهِّرْهُ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ فَضَرَبَهُمْ " فَأَتَاهُ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا فَقَالَ: " أَجَعَلَ اللهُ إِلَيْكَ مِنَ التَّوْبَةِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَلْقِ السَّوْطَ وَلَا تَهْتِكْ سِتْرًا سَتَرَهُ اللهُ " ⦗٥٧٦⦘ وَرُوِّينَا عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُرِقَتْ لَهُ عَيْبَةٌ فَدُلَّ عَلَى صَاحِبِهَا فَتَرَكَهُ وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أُتِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِسَارِقٍ سَرَقَ مِنْ مَوْلَاةٍ لَهُ، فَزَوَّدَهُ وَأَرْسَلَهُ.ابو مجزأہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس سے کوئی گناہ ہو ہمارے پاس لاؤ، ہم اسے پاک کریں گے۔ ایک قوم آئی اسے انہوں نے مارا تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں آئے اور فرمایا: کیا اللہ نے توبہ میں سے کچھ تمہارے اختیار میں دیا ہے؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: کوڑا پھینک دو، اللہ کے ڈالے ہوئے پردے کو نہ کھولو۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کوئی چوری ہو گئی تو چور کو پکڑ لیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اسے معاف کر دیا اور کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی کا مال چرایا تھا تو آپ رضی اللہ عنہما نے اسے زادِ راہ دے کر چھوڑ دیا۔