السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الاستتار بستر الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کے پردہ ڈالنے کی وجہ سے (اپنے گناہوں کو) چھپانے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ فِي اللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحُ وَقَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، يَبِيتُ فِي سِتْرِ رَبِّهِ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ عِنْدَنَا، وَهُوَ غَيْرُ مُتَّصِلِ الْإِسْنَادِ فِيمَا أَعْرِفُهُ، وَهُوَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْقَاذُورَةِ شَيْئًا فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللهِ، فَإِنَّهُ مَنْ يُبْدِ لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ كِتَابَ اللهِ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری ساری امت سے درگزر کر دیا جائے گا علاوہ مجاہرین کے اور مجاہر وہ ہے جو رات میں کوئی عمل کرتا ہے اللہ اس پر پردہ ڈال دیتا ہے اور یہ صبح لوگوں کو بتاتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا۔ اللہ نے رات میں اس کے اوپر پردہ ڈالا اور یہ اللہ کے پردے کو کھول رہا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک غیرمتصل سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اس گندگی سے کچھ پہنچے پھر تو اسے چاہیے کہ اللہ کی پردہ پوشی کا پاس و لحاظ رکھے اور جو ہمارے سامنے اپنی رسوائی کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر کتاب اللہ کے مطابق حد لگائیں گے۔“