حدیث نمبر: 17574
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلًا، اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوْطٍ، فَأُتِيَ بِسَوْطٍ مَكْسُورٍ فَقَالَ: " فَوْقَ هَذَا " فَأُتِيَ بِسَوْطٍ جَدِيدٍ لَمْ تُقْطَعْ ثَمَرَتُهُ، فَقَالَ: " بَيْنَ هَذَيْنِ " فَأُتِيَ بِسَوْطٍ قَدْ رُكِّبَ بِهِ فُلَانٌ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تَنْتَهُوَا عَنْ مَحَارِمِ اللهِ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْقَاذُورَةِ شَيْئًا فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللهِ، فَإِنَّه مَنْ يُبْدِ لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ، لَيْسَ مِمَّا يَثْبُتُ بِهِ هُوَ نَفْسُهُ حُجَّةٌ، وَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عِنْدَنَا مَنْ يَعْرِفُهُ وَيَقُولُ بِهِ، فَنَحْنُ نَقُولُ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے زنا کیا اور اعتراف کر لیا تو نبی کریم ﷺ نے کوڑا منگوایا۔ ایک ٹوٹا ہوا کوڑا لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے اچھا لاؤ۔“ پھر ایک نیا کوڑا لایا گیا جس کا پھل بھی نہیں ٹوٹا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں سے درمیانہ لاؤ۔“ پھر وہ کوڑا لایا گیا، آپ ﷺ نے اس سے حد لگائی اور فرمایا: ”اے لوگو! تم پر اللہ کی محارم حرام ہیں، جس سے کوئی ایسا کام ہو جائے تو وہ پردہ پوشی کرے، اگر (معاملہ) واضح ہو گیا تو ہم اس پر کتاب اللہ کے مطابق حد لگائیں گے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17574
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»