السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: السلطان يكره على الاختتان أو الصبي وسيد المملوك يأمران به، وما ورد في الختان باب: حکمران کا ختنہ کرنے پر مجبور کرنا، یا نابالغ بچے (کا ولی) اور غلام کا آقا اس (ختنہ) کا حکم دیں، اور ختنے کے متعلق وارد شدہ دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17573
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ أُمِرَ أَنْ يَخْتَتِنَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً، فَعَجِلَ فَاخْتَتَنَ بِقَدُومٍ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ فَدَعَا رَبَّهُ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: إِنَّكَ عَجِلْتَ قَبْلَ أَنْ نَأْمُرُكَ بِالْآلَةِ، قَالَ: يَا رَبِّ كَرِهْتُ أَنْ أُؤَخِّرَ أَمْرَكَ، قَالَ: وَخُتِنَ إِسْمَاعِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَخُتِنَ إِسْحَاقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ ابْنُ سَبْعَةِ أَيَّامٍ ".حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن علی رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو 80 سال کی عمر میں ختنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے کلہاڑے سے کر لیا، تکلیف زیادہ ہوئی تو اللہ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”آلہ کا حکم دینے سے پہلے ہی آپ نے جلدی کی“ تو ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: ”اے اللہ! تیرے حکم کو مؤخر کرنا مجھے پسند نہیں۔“
کہتے ہیں: اسماعیل علیہ السلام کا ختنہ 13 سال اور اسحاق علیہ السلام کا 7 سال کی عمر میں ہوا۔