حدیث نمبر: 17555
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ⦗٥٦٠⦘ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَيَدَاهُ فِي أُذُنَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا لَبَّيْكَاهُ، يَا لَبَّيْكَاهُ، قَالَ النَّاسُ: مَا لَهُ؟ قَالَ: جَاءَهُ بَرِيدٌ مِنْ بَعْضِ أُمَرَائِهِ أَنَّ نَهْرًا حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعُبُورِ، وَلَمْ يَجِدُوا سُفَنًا، فَقَالَ أَمِيرُهُمُ: اطْلُبُوا لَنَا رَجُلًا يَعْلَمُ غَوْرَ الْمَاءِ، فَأُتِيَ بِشَيْخٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ الْبَرْدَ وَذَاكَ فِي الْبَرْدِ، فَأَكْرَهَهُ فَأَدْخَلَهُ، فَلَمْ يُلْبِثْهُ الْبَرْدُ، فَجَعَلَ يُنَادِي: يَا عُمَرَاهُ يَا عُمَرَاهُ فَغَرِقَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ فَمَكَثَ أَيَّامًا مُعْرِضًا عَنْهُ، وَكَانَ إِذَا وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ فَعَلَ بِهِ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَعَمَّدْتُ قَتْلَهُ، لَمْ نَجِدْ شَيْئًا يُعْبَرُ فِيهِ، وَأَرَدْنَا أَنْ نَعْلَمَ غَوْرَ الْمَاءِ، فَفَتَحْنَا كَذَا وَكَذَا، وَأَصَبْنَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:: لَرَجُلٌ مُسْلِمٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ جِئْتَ بِهِ، لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ، اذْهَبْ فَأَعْطِ أَهْلَهُ دِيَتَهُ، وَاخْرُجْ فَلَا أَرَاكَ.
حافظ ثناء اللہ

زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور ان کے دونوں ہاتھ ان کے کانوں میں تھے اور وہ کہہ رہے تھے: «يَا لَبَّيْكَاهْ، يَا لَبَّيْكَاهْ» ”اے میں حاضر ہوں، اے میں حاضر ہوں“ تو لوگوں نے کہا: انہیں کیا ہوا؟ تو کہنے لگے: ”میرے بعض امراء کی طرف سے خط آیا ہے کہ ایک نہر ان کے درمیان حائل ہے اور وہ اسے پار کرنے کے لیے کشتی بھی نہیں پاتے۔ تو ان کے امیر نے کہا: کوئی ایسا شخص دیکھو جو پانی کی گہرائی معلوم کر سکے، تو ایک بوڑھا شخص لایا گیا لیکن اس نے کہا: مجھے سردی کا خوف ہے اور ان دنوں سردی بھی تھی۔ میں نے اسے زبردستی پانی میں داخل کر دیا۔ اس سے سردی برداشت نہ ہوئی اور «يَا عُمَرَاهُ، يَا عُمَرَاهُ» ”اے عمر! اے عمر!“ کہتے ہوئے غرق ہو گیا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟“ اس نے کہا: اے عمر! نہ تو ہم اس کو مارنا چاہتے تھے اور نہ اور کوئی سبب تھا ہم تو صرف پانی کی گہرائی جاننا چاہتے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک مسلمان آدمی مجھے تمام سے محبوب ہے۔ اگر تو جان بوجھ کر ایسا کرتا تو میں تیری گردن اتار دیتا، جا اور جا کر اس کے اہل کو دیت دے اور چلا جا، کوئی حرج نہیں۔“ [صحیح]

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17555