السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الإمام فيما يؤدب إن رأى تركه تركه باب: امام (حکمران) تادیب (تعزیر) کے معاملات میں اگر چھوڑ دینا مناسب سمجھے تو اسے ترک کر دے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17554
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَا: " تَشَاتَمَ رَجُلَانِ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمَا شَيْئًا، وَتَشَاتَمَا عِنْدَ عُمَرَ فَأَدَّبَهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج اور ابن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں تو آپ نے کچھ نہ کہا؛ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس دیں تو آپ نے انہیں ادب سکھانے کے لیے سزا دی۔