السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الشارب يضرب زيادة على الأربعين فيموت في الزيادة، والذي يموت في غير حد واجب فيما يعاقب به باب: شراب پینے والے کو چالیس کوڑوں سے زیادہ مارا جائے اور وہ اس زیادتی کی وجہ سے مر جائے، اور اس شخص کا بیان جو ایسی تادیبی سزا میں مر جائے جو بطورِ حد واجب نہ تھی۔
حدیث نمبر: 17550
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا أَحَدٌ يَمُوتُ فِي حَدٍّ مِنَ الْحُدُودِ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا، إِلَّا الَّذِي يَمُوتُ فِي حَدِّ الْخَمْرِ، فَإِنَّهُ شَيْءٌ أَحْدَثْنَاهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ مَاتَ مِنْهُ فَدِيَتُهُ، إِمَّا قَالَ: فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَإِمَّا قَالَ: عَلَى عَاقِلَةِ الْإِمَامِ أَشُكُّ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَةٍ فَفَزِعَتْ فَأَجْهَضَتْ ذَا بَطْنِهَا، فَاسْتَشَارَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَنْ يَدِيَهُ، فَأَمَرَ عُمَرُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: " عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتَقْسِمَنَّهَا عَلَى قَوْمِكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حدود میں سے جو حدِ خمر میں مر جائے، اس کا مجھے افسوس ہوتا ہے۔ جو اس سے مر جائے میں اس کی دیت بیت المال سے دوں گا یا راوی کو شک ہے کہ امام کی طرف سے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا، وہ گھبرا گئی اور اس کا حمل ساقط ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ مانگا تو آپ نے دیت کا مشورہ دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ عزم کیا کہ اسے تیری قوم پر تقسیم کروں۔