السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الشارب يضرب زيادة على الأربعين فيموت في الزيادة، والذي يموت في غير حد واجب فيما يعاقب به باب: شراب پینے والے کو چالیس کوڑوں سے زیادہ مارا جائے اور وہ اس زیادتی کی وجہ سے مر جائے، اور اس شخص کا بیان جو ایسی تادیبی سزا میں مر جائے جو بطورِ حد واجب نہ تھی۔
حدیث نمبر: 17549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا، ثنا بُنْدَارٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَسِنَانٌ، قَالُوا: ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي إِلَّا الْخَمْرَ، فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ وَدَيْتُهُ،؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ وَإِنَّمَا أَرَادَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ زِيَادَةً عَلَى الْأَرْبَعِينَ، أَوْ لَمْ يَسُنَّهُ بِالسِّيَاطِ، وَقَدْ سَنَّهُ بِالنِّعَالِ وَأَطْرَافِ الثِّيَابِ مِقْدَارَ أَرْبَعِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس آدمی پر بھی میں حد نافذ کروں اور وہ مر جائے تو میں اپنے دل میں کوئی خلش نہیں پاتا سوائے شراب (کی حد) کے، اگر شرابی مر جاتا ہے تو میں اس کی دیت دوں گا، کیونکہ نبی ﷺ نے اس کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔
اس کا مطلب، «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، یہ ہے کہ آپ ﷺ نے 40 سے زائد مقرر نہیں فرمایا، یا کوڑوں کے ساتھ مقرر نہیں فرمایا، جبکہ جوتوں اور کپڑوں کے کناروں سے 40 کی مقدار مقرر فرمائی ہے۔