السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: من وجد منه ريح شراب أو لقي سكران باب: جس شخص سے شراب کی بو آئے یا وہ نشے کی حالت میں پایا جائے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ أَبُوهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ قُدَامَةَ بْنَ مَظْعُونٍ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، وَهُوَ خَالُ حَفْصَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَدِمَ الْجَارُودُ سَيِّدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ قُدَامَةَ شَرِبَ فَسَكِرَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللهِ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَرْفَعَهُ إِلَيْكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ شَهِدَ ⦗٥٤٨⦘ مَعَكَ؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ، فَدَعَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: بِمَ تَشْهَدُ؟ فَقَالَ: لَمْ أَرَهُ شَرِبَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُهُ سَكْرَانَ يَقِيءُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَقَدْ تَنَطَّعْتَ فِي الشَّهَادَةِ، قَالَ: ثُمَّ كَتَبَ إِلَى قُدَامَةَ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَدِمَ فَقَامَ إِلَيْهِ الْجَارُودُ فَقَالَ: أَقِمْ عَلَى هَذَا كِتَابَ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخَصْمٌ أَنْتَ أَمْ شَهِيدٌ؟ قَالَ: بَلْ شَهِيدٌ، قَالَ: فَقَدْ أَدَّيْتَ الشَّهَادَةَ، فَصَمَتَ الْجَارُودُ حَتَّى غَدَا عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: أَقِمْ عَلَى هَذَا حَدَّ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا خَصْمًا، وَمَا شَهِدَ مَعَكَ إِلَّا رَجُلٌ، فَقَالَ الْجَارُودُ: إِنِّي أَنْشُدُكَ اللهَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَتُمْسِكَنَّ لِسَانَكَ أَوْ لَأَسُوءَنَّكَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنْ كُنْتَ تَشُكُّ فِي شَهَادَتِنَا فَأَرْسِلْ إِلَى ابْنَةِ الْوَلِيدِ فَاسْأَلْهَا، وَهِيَ امْرَأَةُ قُدَامَةَ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى هِنْدَ بِنْتِ الْوَلِيدِ يَنْشُدُهَا، فَأَقَامَتِ الشَّهَادَةَ عَلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ عُمَرُ لِقُدَامَةَ: إِنِّي حَادُّكَ، فَقَالَ: لَوْ شَرِبْتُ كَمَا يَقُولُونَ مَا كَانَ لَكُمْ تَجْلِدُونِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِمَ؟ قَالَ قُدَامَةُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: ٩٣]، الْآيَةَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخْطَأْتَ التَّأْوِيلَ، إِنِ اتَّقَيْتَ اللهَ اجْتَنَبْتَ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: مَاذَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ قُدَامَةَ، قَالُوا: لَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ مَا كَانَ مَرِيضًا، فَسَكَتَ عَنْ ذَلِكَ أَيَّامًا ثُمَّ أَصْبَحَ يَوْمًا وَقَدْ عَزَمَ عَلَى جَلْدِهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: مَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ قُدَامَةَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ مَا دَامَ وَجِعًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَأَنْ يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ تَحْتَ السِّيَاطِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ وَهُوَ فِي عُنُقِي، ائْتُونِي بِسَوْطٍ تَامٍّ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِقُدَامَةَ فَجُلِدَ فَغَاضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُدَامَةَ فَهَجَرَهُ، فَحَجَّ وَحَجَّ قُدَامَةُ مَعَهُ مُغَاضِبًا لَهُ، فَلَمَّا قَفَلَا مِنْ حَجِّهِمَا وَنَزَلَ عُمَرُ بِالسُّقْيَا وَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ مِنْ نَوْمِهِ فَقَالَ: عَجِّلُوا عَلَيَّ بِقُدَامَةَ فَأْتُونِي بِهِ، فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَى أَنَّ آتِيًا أَتَانِي فَقَالَ: سَالِمْ قُدَامَةَ فَإِنِّي أَخُوكَ، فَعَجِّلُوا إِلِيَّ بِهِ، فَلَمَّا أَتَوْهُ أَبَى أَنْ يَأْتِيَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنْ أَبَى أَنْ يُجَرَّ إِلَيْهِ، حَتَّى كَلَّمَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ صُلْحِهِمَا فِي ابْتِدَاءِ هَذِهِ الْقِصَّةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَقَّفَ فِي قَبُولِ شَهَادَتِهِمَا حَيْثُ لَمْ يَجْتَمِعَا عَلَى شُرْبِهِ، وَحِينَ حَدَّهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ثَبَتَ عِنْدَهُ شُرْبُهُ بِإِقْرَارِهِ أَوْ شَهَادَةِ آخَرَ عَلَى شُرْبِهِ مَعَ الْجَارُودِ.سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بحرین پر عامل مقرر کیا۔ وہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ماموں تھے۔ بنو عبدالقیس کے سردار جارود رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین عمر! قدامہ نے شراب پی ہے اور وہ نشے میں دھت ہو گئے ہیں، میں نے ان کے متعلق اللہ کی حدود میں سے ایک حد کا علم پایا ہے، اس لیے آپ کو مطلع کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا کوئی اور گواہ ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے انہیں شراب پیتے ہوئے تو نہیں دیکھا، البتہ وہ نشے کی حالت میں قے (الٹیاں) کر رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے آدھی گواہی دی ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کو بحرین سے بلا لیا اور وہ حاضر ہو گئے۔ جارود رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی کتاب پر قائم رہنا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم گواہ ہو یا مدعی؟ انہوں نے کہا: گواہ ہوں، تو آپ نے فرمایا: تو پھر تم اپنی گواہی دے چکے ہو۔ اگلے دن پھر جارود رضی اللہ عنہ نے یہی مطالبہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم گواہ نہیں بلکہ مدعی بن رہے ہو۔ جارود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر ہماری گواہی قبول نہیں تو ولید کی بیٹی (جو قدامہ کی اہلیہ ہیں) سے معلوم کر لیں۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی گواہی دے دی۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں تم پر حد لگاؤں گا۔ سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ مجھے حد نہیں لگا سکتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیوں؟ انہوں نے کہا: کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [سورة المائدة: 93] ”مومنوں اور عملِ صالح کرنے والوں پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کی غلط تفسیر کر رہے ہو، اگر تم اللہ سے ڈرتے ہوتے تو کبھی حرام کام نہ کرتے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کے کوڑوں کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگوں نے منع کر دیا۔ آپ نے دوبارہ دریافت کیا تو انہوں نے پھر منع کر دیا کہ وہ بیمار ہیں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ کی بارگاہ میں اس حال میں حاضر ہونا زیادہ پسند ہے کہ میں نے کوڑے لگوائے ہوں، بجائے اس کے کہ یہ حد میرے گلے کا طوق بن جائے، پھر آپ نے کوڑا منگوایا اور سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کو حد لگائی۔ سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئے۔ اسی حالت میں ان دونوں نے حج کیا۔ جب حج سے واپس لوٹے اور مقامِ سقیا پر رکے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: قدامہ کو میرے پاس لاؤ۔ انہیں بلایا گیا تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں زبردستی بلاؤ، چنانچہ انہیں زبردستی لایا گیا۔ آپ نے ان سے بات کی، ان کے لیے استغفار کیا اور یہ ان کی آپس میں پہلی صلح تھی۔
اس قصہ کے شروع میں ہے کہ محض بو اور ایک گواہی سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حد نہ ماری جب تک کہ معاملہ ثابت نہ ہو گیا۔