السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: من وجد منه ريح شراب أو لقي سكران باب: جس شخص سے شراب کی بو آئے یا وہ نشے کی حالت میں پایا جائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17515
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ جَالِسًا بِحِمْصَ فَقَالُوا لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللهِ مَا هَكَذَا أَنْزَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: فَقُلْتُ: وَيْحَكَ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ " وَأَنْتَ تَقُولُ لِي مَا تَقُولُ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: تُكَذِّبُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَشْرَبُ الْخَمْرَ، أَمَا وَاللهِ لَا تَرْجِعُ إِلَى أَهْلِكَ حَتَّى أَجْلِدَكَ الْحَدَّ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ لَمْ يَجْلِدْهُ حَتَّى ثَبَتَ عِنْدَهُ شُرْبُهُ مَا يُسْكِرُ بِبَيِّنَةٍ أَوِ اعْتِرَافٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حمص میں بیٹھا تھا تو لوگوں نے کہا: قرآن سنائیے۔ میں نے سورہ یوسف پڑھی تو ایک شخص کہنے لگا: اللہ کی قسم! یہ ایسے نہیں نازل ہوئی تھی۔ میں نے کہا: تو برباد ہو! میں نے نبی کریم ﷺ کو سنائی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”بہت اچھا“ اور تو یہ بات کہتا ہے؟ ابھی میں یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اس سے شراب کی بو محسوس کی تو میں نے کہا: تو شراب پی کر اللہ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے؟ اللہ کی قسم! جب تک تجھے حد نہ مار دوں گھر نہیں جانے دوں گا۔