السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: من أقيم عليه الحد أربع مرات ثم عاد له باب: جس شخص پر چار مرتبہ حد قائم کی گئی ہو اور وہ پھر اسی (گناہ) کا اعادہ کرے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17502
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْمَعْنَى قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ فِي الْخَامِسَةِ: " إِنْ شَرِبَهَا فَاقْتُلُوهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سابقہ روایت ہے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے پانچویں مرتبہ کے بارے میں فرمایا: ”اگر وہ اسے پیے تو اسے قتل کر دو۔“