السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ السُّكَّرِيِّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيٌّ الْبَاشَانِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِي حَنِيفَةَ فِي النَّبِيذِ، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: أَخَذْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَبِيكَ، قَالَ: وَأَبِي مَنْ هُوَ قَالَ: " إِذَا رَابَكُمْ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ " قَالَ عُبَيْدُ اللهِ الْعُمَرِيُّ: إِذَا تَيَقَّنْتَ بِهِ وَلَمْ تَرْتَبْ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ.حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے نبیذ کے بارے میں گفتگو کی تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہنے لگے: یہ تو ہم نے آپ کے والد کی طرف سے لیا ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب شک ہو تو اس میں پانی ملا دو، تو عبید اللہ رحمہ اللہ کہنے لگے: جب یقین ہو اور شک نہ ہو تو کیا کرو گے؟ تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ خاموش ہو گئے۔