السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ، فَلَمَّا رَفَعَهُ إِلَى فِيهِ قَطَبَ فَتَرَكَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا شَرَابُ أَهْلِ مَكَّةَ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَطَبَ فَنَحَّاهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِذَنُوبٍ أَوْ دَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَقَى الَّذِي يَلِيهِ وَالَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا اصْنَعُوا بِهِ إِذَا غَلَبَكُمْ " فَهَذَا إِنَّمَا رَوَاهُ الْكَلْبِيُّ، وَالْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ بَاذَانُ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِمَا وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ، فَغَلِطَ فِي إِسْنَادِهِ.مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گرم دن طواف کیا اور پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ کا ایک برتن لایا گیا، جب آپ ﷺ نے اسے منہ کی طرف اٹھایا تو منہ بنایا اور اسے چھوڑ دیا۔ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ اہل مکہ کا مشروب ہے، کیا یہ حرام ہے؟“ آپ ﷺ خاموش رہے۔ پھر دوسری مرتبہ وہ آپ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے منہ بنایا اور اسے ہٹا دیا، اس آدمی نے پھر وہی بات کہی تو آپ ﷺ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس میں ڈال دیا، پھر اپنے ساتھ والے اور اپنی دائیں جانب والے کو پلایا اور فرمایا: ”جب یہ تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔“
اسے صرف کلبی نے روایت کیا ہے اور کلبی متروک ہے، اور ابو صالح باذان ضعیف ہے، ان دونوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن یمان نے اسے سفیان سے روایت کیا تو اس کی سند میں غلطی کی۔