السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَنْبَأَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُخْبِرُ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ، فَقَالَ: " اضْرِبْ بِهِ الْحَائِطَ، فَإِنَّهُ لَا يَشْرَبُ هَذَا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ كَانَ إِلَى إِحْلَالِهِ بِصَبِّ الْمَاءِ عَلَيْهِ سَبِيلٌ لَمَا أَمَرَ بِإِرَاقَتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَرْفُوعًا: لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَلَا النَّقِيرِ وَلَا الْحَنْتَمِ، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَاشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ وَثُمَامَةُ بْنُ كِلَابٍ هَذَا مَجْهُولٌ، وَالثَّابِتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْخَلِيطَيْنِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُهُ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ السُّحَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَابَكَ مِنْ شَرَابِكَ رَيْبٌ فشِنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، أَمِطْ عَنْكَ حَرَامَهُ وَاشْرَبْ حَلَالَهُ وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَاءَ حِفْظُهُ، فَرَوَى مَا لَمْ ⦗٥٢٧⦘ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: وَقَوْلُهُ: إِذَا رَابَكَ، قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَذَكَرَهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ.سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس مٹی کے مٹکے میں بنا ہوا نبیذ لایا گیا جس میں جھاگ بنا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دیوار پر دے مارو۔ یہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے کا مشروب نہیں ہے۔“ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر پانی کے ملانے سے یہ حلال ہو سکتا تو نبی ﷺ کبھی اسے دیوار پر مارنے کا نہ کہتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے کدو کے برتن، تارکول اور لکڑی جو کھجور کی جڑ سے بنا ہوا برتن، اور رنگے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور خشک اور تر کھجور اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ جو گاڑھا ہو جائے تو اس میں پانی ملا لو۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع روایت آئی ہے، فرمایا کہ: ”جب مشروب میں شک ہو تو اس پر پانی ڈال دے اور جو اس سے حرام ہے اسے انڈیل دے اور حلال کو پی لے۔“ لیکن یہ بھی ضعیف ہے۔