السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في صفة نبيذهم الذي كانوا يشربونه في حديث أنس بن مالك وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه باب: انس بن مالک اور دیگر صحابہ کی احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس نبیذ (مشروب) کی صفت کا بیان جو وہ پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 17426
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنِ اطْبُخُوا، شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْهُ، فَإِنَّ لِلشَّيْطَانِ اثْنَيْنِ، وَلَكُمْ وَاحِدَةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اپنے مشروبات کو اتنا پکاؤ کہ اس سے شیطان کا حصہ ختم ہو جائے، شیطان کے لیے اس میں سے دو تہائی اور تمہارے لیے ایک تہائی ہے۔