حدیث نمبر: 17425
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ سَلَامَةَ، أَخْبَرَاهُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ فَشَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَاءَ الْأَرْضِ وَثِقَلَهَا، وَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا إِلَّا هَذَا الشَّرَابُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اشْرَبُوا الْعَسَلَ، فَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لَا يُسْكِرُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَطَبَخُوهُ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ وَبَقِيَ الثُّلُثُ، فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَدْخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ أُصْبُعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ، فَقَالَ: هَذَا الطِّلَاءُ، هَذَا مِثْلُ طِلَاءِ الْإِبِلِ، فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَشْرَبُوهُ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَحْلَلْتَهَا وَاللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ، اللهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

محمود بن لبید انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو اہل شام نے وہاں کی بیماریوں کی شکایت کی اور کہا کہ ہماری اصلاح صرف اس پینے سے ہو سکتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: شہد پیا کرو، تو وہ بولے: شہد سے ہم ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ایک شخص کہنے لگا کہ کیا وہ مشروب ہم آپ کے لیے بنائیں کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، تو انہوں نے اسے اتنا پکایا کہ اس کا دو تہائی ختم ہو گیا اور صرف ثلث بچا، تو وہ آپ کے پاس لایا گیا، آپ نے اپنی انگلی اس میں داخل فرمائی اور پھر اسے باہر نکالا تو وہ ربڑ کی طرح آپ کی انگلی سے بہہ رہا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو اونٹوں کے طلاء کی طرح ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ واللہ! کیا آپ نے یہ حلال کر دیا؟ فرمایا: واللہ! نہیں، جو چیز آپ نے اس کے لیے حرام کی ہے میں اس کو حلال اور جو حلال کی ہے میں اس کو حرام نہیں کر سکتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17425
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»