❮
❯
حدیث نمبر: 17420
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مَرْوَانَ النَّسَائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ ⦗٥٢١⦘ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ قَوْمٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوه عَنِ النَّبِيذِ، فَقَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبَذُوا نَبِيذًا لَهُمْ فِي نَقِيرٍ وَحَنَاتِمَ وَدُبَّاءٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُهْرِيقَتْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِسِقَاءٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ، وَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي تُسْتَقْبَلُ وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ، فَإِذَا أَمْسَى شَرِبَ مِنْهُ وَسَقَى، فَإِنْ أَصْبَحَ فِيهِ شَيْءٌ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک قوم نے آکر نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ نبی ﷺ ایک سفر پر گئے۔ جب واپس آئے تو آپ ﷺ کے صحابہ نے اپنے لیے تارکول کے برتنوں اور ہرے رنگ کے مٹکوں اور کدو کے برتنوں میں نبیذ بنائی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ کے حکم سے انہیں بہا دیا گیا اور آپ ﷺ نے مشکیزہ لانے کا کہا تو اس میں پانی اور منقہ ڈالا گیا، جو آپ ﷺ کے لیے رات کو بطور نبیذ بنایا جاتا تو صبح سے اس دن، آنے والی رات اور اگلے دن شام تک اسے پیتے، پھر جب شام ہوتی تو خود بھی پیتے اور دوسروں کو بھی پلاتے، اور اگر اگلی صبح اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دینے کا حکم دیتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17420
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»