السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في صفة نبيذهم الذي كانوا يشربونه في حديث أنس بن مالك وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه باب: انس بن مالک اور دیگر صحابہ کی احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس نبیذ (مشروب) کی صفت کا بیان جو وہ پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 17419
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ، ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ، قَالَتْ: تَغْسِلُ السِّقَاءَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، فَقَالَ لَهَا أَبِي: مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ.حافظ ثناء اللہ
عمرہ رحمہا اللہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے لیے صبح کے وقت نبیذ بنایا کرتی تھیں اور آپ ﷺ اسے شام کو نوش فرمایا کرتے تھے، اور جب آپ ﷺ پی لیتے تو وہ بچا ہوا انڈیل دیتیں، ایسے ہی وہ شام کو بناتی تھیں تو آپ ﷺ صبح نوش فرماتے تھے اور ہم اس برتن کو صبح و شام دھوتی تھیں، تو میرے والد نے کہا: ایک دن میں دو مرتبہ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔