السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: من قال: يسقط كل حق لله تعالى بالتوبة قياسا على آية المحاربة باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک آیتِ محاربہ پر قیاس کرتے ہوئے توبہ سے اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق ساقط ہو جاتے ہیں۔
وَاسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، زَعَمَ أَنَّ امْرَأَةً وَقَعَ عَلَيْهَا رَجُلٌ فِي سَوَادِ الصُّبْحِ، وَهِيَ تَعْمَدُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَاسْتَغَاثَتْ بِرَجُلٍ مَرَّ عَلَيْهَا وَفَرَّ صَاحِبُهَا، ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهَا قَوْمٌ ذَوُو عِدَّةٍ فَاسْتَغَاثَتْ بِهِمْ فَأَدْرَكُوا الَّذِي اسْتَغَاثَتْ بِهِ، وَسَبَقَهُمُ الْآخَرُ فَذَهَبَ، فَجَاءُوا بِهِ يَقُودُونَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا الَّذِي أَغَثْتُكِ وَقَدْ ذَهَبَ الْآخَرُ، فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا، وَأَخْبَرَهُ الْقَوْمُ أَنَّهُمْ أَدْرَكُوهُ يَشْتَدُّ، فَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ أَغِيثُهَا عَلَى صَاحِبِهَا فَأَدْرَكُونِي هَؤُلَاءِ فَأَخَذُونِي، قَالَتْ: كَذَبَ، هُوَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ "، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ: لَا تَرْجُمُوهُ وَارْجُمُونِي، أَنَا الَّذِي فَعَلْتُ بِهَا الْفِعْلَ، فَاعْتَرَفَ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، وَالَّذِي أَجَابَهَا، وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَ: " أَمَّا أَنْتِ فَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكِ، وَقَالَ لِلَّذِي أَجَابَهَا قَوْلًا حَسَنًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْجُمُ الَّذِي اعْتَرَفَ بِالزِّنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا؛ لِأَنَّهُ قَدْ تَابَ إِلَى اللهِ "، أَحْسَبُهُ قَالَ: " تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ، أَوْ أَهْلُ يَثْرِبَ، لَقُبِلَ مِنْهُمْ "، فَأَرْسَلَهُمْ وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ وَقَالَ فِيهِ: فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَعَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ يُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِتَعْزِيرِهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُمْ شَهِدُوا عَلَيْهِ بِالزِّنَا وَأَخْطئُوا فِي ذَلِكَ حَتَّى قَامَ صَاحِبُهَا فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، وَقَدْ وُجِدَ مِثْلُ اعْتِرَافِهِ مِنْ مَاعِزٍ وَالْجُهَنِيَّةِ وَالْغَامِدِيَّةِ وَلَمْ يُسْقِطْ حُدُودَهُمْ، وَأَحَادِيثُهُمْ أَكْثَرُ وَأَشْهَرُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صبح منہ اندھیرے ایک عورت مسجد کی طرف آ رہی تھی کہ ایک شخص اس پر واقع ہو گیا اور بھاگ گیا۔ اس نے دوسرے کونے والے شخص سے مدد طلب کی تو وہ اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ اتنے میں لوگوں کی ایک جماعت آ گئی تو اس عورت نے ان سے مدد طلب کی تو انہوں نے اس شخص کو پکڑ لیا جو مدد کرنے آیا تھا اور اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آ گئے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ وہ تو بھاگ گیا، میں تو مدد کرنے آیا تھا، لیکن وہ لوگ اور وہ عورت اس کے خلاف گواہی دینے لگے کہ یہی ہے، تو آپ ﷺ نے اسے رجم کا حکم دے دیا۔ قوم میں وہ زانی شخص بھی تھا، اس نے کہا کہ اسے چھوڑ دو، یہ کام میں نے کیا ہے، تو ان تینوں کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے عورت کو فرمایا: ”اللہ نے تجھے معاف کر دیا ہے“ اور مدد کرنے والے کے لیے اچھی بات کہی، اور زنا کرنے والے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے رجم کر دو، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اہل مدینہ یا یثرب والے ایسی توبہ کر لیں تو سب معاف کر دیے جائیں“۔