السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: المحارب يتوب باب: محارب (ڈاکو یا باغی) کے توبہ کر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17322
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٤٩٤⦘ يَعْنِي أَبَا عَمْرٍو الْحِيرِيَّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ مُرَادٍ فَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ التَّائِبِ، أَنَا فُلَانٌ ابْنُ فُلَانٍ، مِمَّنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ، جِئْتُ تَائِبًا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيَّ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: جَاءَ تَائِبًا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِ، فَلَا يُعْرَضُ إِلَّا بِخَيْرٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس فجر کی نماز کے بعد ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ڈاکو تھا قبل اس کے کہ آپ مجھے پکڑیں میں خود اللہ سے توبہ کر چکا ہوں، تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: واقعی تو پہلے آ گیا ہے، اور اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ فرمایا۔