السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن باب: ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
وَرَوَاهُ مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهِ: سُرِقَتْ قَطِيفَةٌ مِنْ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ تِلْكَ الْقَطِيفَةَ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمْنَا ذَلِكَ، وَكَانَتِ ⦗٤٨٨⦘ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْنَاهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي عَرْضِ الْفِدَاءِ وَالشَّفَاعَةِ وَالْقَطْعِ. فَأَمَّا رِوَايَةُ اللَّيْثِ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي الْعَارِيَةِ فَإِنَّمَا رَوَاهَا أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ، وَخَالَفَهُ ابْنُ وَهْبٍ وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَرِوَايَتُهُمَا أَوْلَى بِالصِّحَّةِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ، وَأَمَّا رِوَايَةُ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَهِيَ مُنْفَرِدَةٌ، وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَقَدْ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ الشَّيْخُ الْعَالِمُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: فَالْحَدِيثُ مُخْتَلَفٌ عَلَى نَافِعٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى الْعَارِيَةَ عَلَى تَعْرِيفِهَا، وَالْقَطْعُ كَانَ سَبَبَ سَرِقَتِهَا الَّتِي نُقِلَتْ فِي سَائِرِ الرِّوَايَاتِ فَلَا تَكُونُ مُخْتَلِفَةً، وَيَكُونُ تَقْدِيرُ الْخَبَرِ أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، كَمَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، سَرَقَتْ، كَمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، فَقُطِعَتْ، يَعْنِي بِالسَّرِقَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کے گھر سے ایک عورت نے وہ چادر چوری کر لی تو ہمیں یہ بات بہت بھاری لگی، وہ قریش کی ایک عورت تھی، چنانچہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے (سفارش کی) بات کی۔ پھر انہوں نے فدیہ پیش کرنے، سفارش اور ہاتھ کاٹنے کے بارے میں حدیث ذکر کی۔
رہی لیث کی یونس سے، زہری سے عاریت والی روایت، تو اسے لیث سے صرف ابو صالح نے روایت کیا ہے، اور ابن وہب اور ابن مبارک نے ان کی مخالفت کی ہے، اور ان دونوں کی روایت ابو صالح کی روایت سے زیادہ صحیح ہونے کے لائق ہے۔ اور زہری سے معمر کی روایت میں وہ منفرد ہیں، اور ایک راوی کے مقابلے میں جماعت حفظ کے زیادہ لائق ہے۔ معمر نے اسے ایوب سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ہے کہ ایک مخزومی عورت سامان عاریتاً لے کر انکار کر دیتی تھی تو نبی ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا، اور ابن غنج نے نافع سے، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا۔
پس اس حدیث کی سند میں نافع پر اختلاف ہے۔ اور یہ احتمال ہے کہ جن راویوں نے عاریت کا ذکر کیا انہوں نے اس عورت کی پہچان کے لیے کیا ہو، اور ہاتھ کاٹنا اس کی اس چوری کی وجہ سے تھا جو باقی تمام روایات میں منقول ہے، اس طرح روایات میں اختلاف نہیں رہتا، اور خبر کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک مخزومی عورت جو سامان عاریتاً لے کر انکار کر دیتی تھی، جیسا کہ معمر نے روایت کیا، اس نے چوری کی، جیسا کہ دوسروں نے روایت کیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، یعنی چوری کی وجہ سے۔ واللہ اعلم۔