السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن باب: ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17300
وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " فَقُطِعَتْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی، اسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے سفارش کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔“