السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن باب: ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنٍ لِعُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ اخْتَلَسَ مِنْ رَجُلٍ ثَوْبَهُ، فَقَالَ الْمُخْتَلِسُ: إِنِّي كُنْتُ أُعَرِّفُهُ " فَلَمْ يَقْطَعْهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
عبید بن ابرص کے ایک بیٹے فرماتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی سے کپڑا چھینا تھا، اس چھیننے والے نے کہا: میں اس کو پہچانتا ہوں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔