السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: النباش يقطع إذا أخرج الكفن من جميع القبر باب: کفن چور کا ہاتھ اس صورت میں کاٹے جانے کا بیان جب وہ پورے کفن کو قبر سے نکال لے۔
حدیث نمبر: 17242
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، قَالَ: كَتَبَ أَيُّوبُ بْنُ شُرَحْبِيلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنْ نَبَّاشِي الْقُبُورِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: " لَعَمْرِي لَيُحْسَبُ سَارِقُ الْأَمْوَاتِ أَنْ يُعَاقَبَ بِمَا يُعَاقَبُ بِهِ سَارِقُ الْأَحْيَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
عمران تُجیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب بن شرحبیل رحمہ اللہ نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف [خط لکھا] وہ ان سے سوال کرتے تھے، قبروں کے کفن چور کے متعلق حضرت عمر رحمہ اللہ نے ان کی طرف لکھا: میری عمر کی قسم! اسے زندگی بھر قید کیا جائے یا جو اس نے چوری کی ہے اس سے اس کا بدلہ لیا جائے۔