السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: النباش يقطع إذا أخرج الكفن من جميع القبر باب: کفن چور کا ہاتھ اس صورت میں کاٹے جانے کا بیان جب وہ پورے کفن کو قبر سے نکال لے۔
حدیث نمبر: 17238
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِأَنَّ هَذَا حِرْزٌ مِثْلُهُ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ اس جیسی چیز کے لیے (مناسب) حفاظت کی جگہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٦٨⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ " قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ؟ " يَعْنِي الْقَبْرَ، قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَوْ مَا خَارَ اللهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ عرض کیا: میں حاضر ہوں اور میں بار بار حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری کیا کیفیت ہوتی ہے جب لوگوں کو موت پہنچتی ہے تو اس کا ٹھکانا قبر ہوتی ہے؟“ عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو صبر کو لازم پکڑ۔“