السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
جماع أبواب القطع في السرقة باب: چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ؟ " ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَابْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کی ایک معزز عورت نے چوری کر لی جو بنو مخزوم سے تھی، تو وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺ سے کون بات کرے گا؟ تو انہوں نے کہا: اتنی ہمت صرف اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کر سکتے ہیں کیونکہ وہ محبوبِ رسول ﷺ ہیں۔ جب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کی حدود میں سفارش کرتا ہے، اے اسامہ؟“ اور پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب یہی تھا جب ان میں سے کوئی بڑا چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ چوری کرتی تو بھی میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“