السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من حد في التعريض باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے اشارے کنایے (تعریض) میں تہمت لگانے پر حد قائم کی ہے۔
حدیث نمبر: 17147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اسْتَبَّا فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا أَبِي بِزَانٍ، وَلَا أُمِّي بِزَانِيَةٍ، فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ قَائِلٌ: مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: كَانَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ، سِوَى هَذَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ، " فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن کہتی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو آدمی لڑ پڑے تو ایک نے دوسرے کو کہا: ”میرا والد بھی زانی نہیں ہے اور نہ میری والدہ“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں مشورہ کیا تو ایک نے کہا کہ اس نے اپنے والدین کی مدح کی ہے۔ دوسرے کہنے لگے: ”والدین کی مدح اور لفظوں سے بھی ہو سکتی ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے لگیں“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی کوڑے مارے۔