السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد قذف المحصنات باب: پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ عَنْ رَاحِلَتِي، فَعَقَلْتُهَا فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَحَلَّ عِقَالَهَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فَاعِلُ بِأُمِّهِ، قَالَ: فَقَدَّمَنِي إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ" فَضَرَبَنِي ثَمَانِينَ سَوْطًا"، قَالَ: فَأَنْشَأْتُ أَقُولُ:.حافظ ثناء اللہ
ابومیمونہ کہتے ہیں: میں مدینہ آیا، اپنی سواری کو باندھا اور مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص آیا اور میری سواری کو کھولنے لگا، تو میں نے اسے کہا: اے اپنی ماں سے بدفعلی کرنے والے! تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اسّی کوڑے مارے، تو میں نے یہ شعر کہا: کاش! اگر تم مجھے دیکھ لیتے، آج کے دن مجھے کھڑا کر کے اسّی کوڑے مارے گئے، لیکن میں صبر کرنے والا ہوں۔