السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد قذف المحصنات باب: پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17135
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَأَنْكَرَتْ " فَرَجَمَهُ وَتَرَكَهَا ".حافظ ثناء اللہ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے، تو نبی ﷺ نے اس عورت سے معلوم کروایا تو اس نے انکار کر دیا، تو آپ ﷺ نے اسے رجم کر دیا اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔