السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
جماع أبواب القذف -- باب: ما جاء في تحريم القذف باب: قذف (زنا کی تہمت لگانے) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قذف (تہمت لگانے) کی حرمت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17129
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَهُنَا يُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ جاسوسی کرو، نہ منہ موڑو اور نہ ایک دوسرے کی بیع پر بیع کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، نہ اسے رسوا کرے اور نہ اسے حقیر سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے“ اور تین مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے اتنا شر کافی ہے کہ وہ کسی مسلمان کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان کا مال، اس کی جان اور اس کی عزت دوسرے پر حرام ہے۔“