السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: الحكم بينهم إذا حكم بما أنزل الله على نبيه محمد صلى الله عليه وسلم دون ما في كتبهم بدليل الآيات التي كتبناها باب: جب ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے تو ان کی کتابوں کے بجائے اس (شریعت) کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ پر نازل فرمائی، ان آیات کی دلیل کی بنا پر جو ہم نے لکھی ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ، أَلَمْ يُخْبِرْكُمُ اللهُ فِي كِتَابِهِ أَنَّهُمْ حَرَّفُوا كِتَابَ اللهِ وَبَدَّلُوا وَكَتَبُوا كِتَابًا بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا؟ لِيَنْهَاكُمُ الْعِلْمُ الَّذِي جَاءَكُمْ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ، وَاللهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَمَّا أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ " ⦗٤٣٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں سوال کرتے ہو جب کہ اللہ نے اپنی سب سے بہترین کتاب جو تم پڑھتے ہو عطا کی ہے؟ تم محض اسے پڑھتے ہو، سیر نہیں ہوتے۔ کیا اللہ نے تمہیں بتایا نہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتابوں میں تحریف کی اور ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة البقرة: 79] ”اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تاکہ اس سے تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیں“؟ واللہ! ہم نے ان میں سے کوئی شخص نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کے بارے میں سوال کرتا ہو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہے۔