❮
❯
حدیث نمبر: 17127
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ، أَلَمْ يُخْبِرْكُمُ اللهُ فِي كِتَابِهِ أَنَّهُمْ حَرَّفُوا كِتَابَ اللهِ وَبَدَّلُوا وَكَتَبُوا كِتَابًا بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا؟ لِيَنْهَاكُمُ الْعِلْمُ الَّذِي جَاءَكُمْ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ، وَاللهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَمَّا أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ " ⦗٤٣٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں سوال کرتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل کی ہے سب سے تازہ خبر ہے، تم اسے خالص پڑھتے ہو جس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی۔ کیا اللہ نے تمہیں اپنی کتاب میں نہیں بتایا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی اور اسے بدل ڈالا اور ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة البقرة: 79] ”اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تاکہ اس سے تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیں“؟ جو علم تمہارے پاس آیا ہے وہ تمہیں ان سے سوال کرنے سے روک دے۔ واللہ! ہم نے ان میں سے کوئی شخص نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کے بارے میں سوال کرتا ہو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 17127
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»