السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: حد الرجل أمته إذا زنت باب: جب لونڈی زنا کرے تو مالک کا اس پر حد قائم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17109
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّ جَارِيَةً لَهُ زَنَتْ فَقَالَ لِلَّذِي يَجْلِدُهَا أَسْفَلَ رِجْلَيْهَا: خَفِّفْ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَيْنَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ} [النور: ٢]؟ قَالَ: أَنَا أَقْتُلُهَا وَالرِّوَايَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي قَطْعِهِ عَبْدًا لَهُ سَرَقَ مَذْكُورَةٌ فِي قَطْعِ الْآبِقِ إِذَا سَرَقَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ الْأَنْصَارُ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَحِدُّونَ إِمَاءَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک لونڈی کو حد لگوائی اور جو کوڑے مارنے والا تھا اسے کہا کہ ”دونوں ٹانگوں سے نیچے مارنا اور آہستہ“ تو ہم نے کہا کہ پھر اللہ کے اس فرمان کا کیا (مطلب) ہے: ﴿وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ﴾ [سورة النور: 2] ”ان کے ساتھ اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ برتو؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”کیا پھر میں اس کو قتل کر دیتا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار اور ان کے بعد (کے لوگ) غلاموں کو حد لگایا کرتے تھے۔