السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء فيمن أتى جارية امرأته باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ، يَقَعُ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ حُرَيْثٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَبَّقٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَزَالُ يُسَافَرُ وَيَغْزُو، وَإِنَّ امْرَأَتَهُ بَعَثَتْ مَعَهُ جَارِيَةً لَهَا، فَقَالَتْ: تَغْسِلُ رَأْسَكَ وَتَخْدِمُكَ وَتَحْفَظُ رَحْلَكَ، وَلَمْ تَجْعَلْهَا لَهُ، وَأَنَّهُ طَالَ سَفَرُهُ فِي وَجْهِهِ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِالْجَارِيَةِ، فَلَمَّا قَفَلَ أَخْبَرَتِ الْجَارِيَةُ مَوْلَاتَهَا بِذَلِكَ، فَغَارَتْ غَيْرَةً شَدِيدَةً وَغَضِبَتْ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ عَتِيقَةٌ وَعَلَيْهِ مِثْلُهَا، وَإِنْ كَانَ أَتَاهَا عَنْ طِيبَةِ نَفْسٍ مِنْهَا وَرِضًى فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ مِثْلُ ثَمَنِهَا لَكِ " وَلَمْ يُقِمْ فِيهِ حَدًّا قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ لَحَدِيثُ قَبِيصَةَ هَذَا أَصَحُّ، يَعْنِي مِنْ رِوَايَةِ مَنْ رَوَاهُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَا يَقُولُ بِهَذَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: فِي التَّارِيخِ قَبِيصَةُ بْنُ حُرَيْثٍ الْأَنْصَارِيُّ سَمِعَ سَلَمَةَ بْنَ الْمُحَبِّقِ، فِي حَدِيثِهِ نَظَرٌ.سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک صحابیِ رسول ﷺ اکثر سفر میں رہتے، غزوات میں شریک ہوتے تو ان کی بیوی نے ان کے ساتھ اپنی لونڈی بھیج دی کہ وہ ان کے سارے کام کرے، لیکن وہ اپنے خاوند کو نہ دی۔ سفر لمبا ہو گیا تو وہ لونڈی پر واقع ہو گئے۔ جب واپس لوٹے تو عورت کو لونڈی نے بتا دیا۔ اسے بڑی غیرت آئی اور غصہ بھی، وہ نبی ﷺ کے پاس آگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے زبردستی کی ہے تو وہ آزاد ہے اور خاوند کے ذمے اس جیسی اور لونڈی ہے، اگر وہ رضامند تھی تو وہ خاوند کی ہے اور وہ اس کی قیمت ادا کرے گا“، لیکن آپ ﷺ نے حد قائم نہیں کی۔
امام بخاری رحمہ اللہ سے مجھے جو بات پہنچی ہے اس کے مطابق انہوں نے فرمایا: قبیصہ کی یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، یعنی ان لوگوں کی روایت سے جنہوں نے اسے حسن کے واسطے سے سلمہ سے روایت کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے اصحاب میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ میں فرمایا: قبیصہ بن حریث انصاری نے سلمہ بن محبق سے سنا ہے، اس کی حدیث میں نظر ہے۔