السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء فيمن أتى جارية امرأته باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی۔
حدیث نمبر: 17067
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، " أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي وَقَعَ عَلَى جَارِيَتِي بِغَيْرِ إِذْنِي، قَالَ ⦗٤١٦⦘ النُّعْمَانُ: عِنْدِي فِي هَذَا قَضَاءٌ شَافٍ أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَكُونِي أَذِنْتِ لَهُ رَجَمْتُهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَذِنْتِ لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً "، فَقَالَ لَهَا النَّاسُ: وَيْحَكِ أَبُو وَلَدِكِ يُرْجَمُ؟ فَجَاءَتْ فَقَالَتْ: قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَهُ، وَلَكِنْ حَمَلَتْنِي الْغَيْرَةُ عَلَى مَا قُلْتُ، فَجَلَدَهُ مِائَةً لَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو بِشْرٍ عَنْ حَبِيبٍ، إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبٍ.حافظ ثناء اللہ
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میرا خاوند میری اجازت کے بغیر میری لونڈی پر واقع ہو گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: میرے پاس نبی ﷺ کا بڑا واضح فیصلہ موجود ہے کہ ”اگر تو نے اسے اجازت نہیں دی تو میں اسے رجم کروں گا، اور اگر تو نے اجازت دی ہے تو اسے کوڑے ماروں گا۔“ تو لوگ کہنے لگے: تو برباد ہو! تیرے بچے کا باپ رجم کیا جائے گا؟ تو وہ آئی اور کہنے لگی: مجھے غیرت نے ابھارا تھا، میں نے اسے اجازت دی تھی، تو اس کو کوڑے مارے گئے۔