السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد اللوطي باب: لواطت کرنے والے کی حد کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17032
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدُّ اللُّوطِيِّ حَدُّ الزَّانِي، إِنْ كَانَ مُحْصَنًا رُجِمَ، وَإِلَّا جُلِدَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِلَى هَذَا رَجَعَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا زَعَمَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوطی کی سزا زنا والی ہے؛ اگر شادی شدہ ہے تو رجم، ورنہ کوڑے لگائے جائیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کے گمان کے مطابق امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرف رجوع کر لیا تھا۔