السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من قال: لا يقام عليه الحد حتى يعترف أربع مرات باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جب تک وہ چار مرتبہ اعتراف نہ کر لے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 16994
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَاعِزًا، لَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " وَيْحَكَ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ؟ " فَقَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا لَا يُكَنِّي؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ماعز رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو برباد ہو، شاید تو نے بوسہ دیا ہو یا اس کے ساتھ چمٹا ہو یا اس کی طرف دیکھا ہو اور تو اسے زنا سمجھ رہا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: نہیں۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے ایسے ایسے کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے رجم کا حکم دیا۔