حدیث نمبر: 1698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ثنا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَاطْمَأَنَّ زَادَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ الْمَغْرِبِ لِأَنَّهَا وِتْرٌ وَصَلَاةُ الْغَدَاةِ لِطُولِ قِرَاءَتِهَا قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى صَلَاتَهُ الْأُولَى ".
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پہلے جو نماز فرض کی گئی وہ دو رکعتیں تھیں، جب نبی ﷺ مدینہ میں آئے اور مطمئن ہو گئے تو مغرب کے علاوہ دو رکعتیں زیادہ کی گئیں، اس لیے کہ وہ وتر ہے اور صبح کی نماز میں قراءت لمبی ہوگی۔ انہوں نے کہا: جب آپ ﷺ سفر کرتے تو آپ ﷺ پہلی والی نماز پڑھتے یعنی قصر کرتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1698
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن حبان 12738»